Friday, June 17, 2011

انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف جامعہ ابن تیمیہ اولڈ بوائزکے قیام کی کوششیں تیز


انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف جامعہ ابن تیمیہ اولڈ بوائزکے قیام کی کوششیں جاری ہیں۔ملک و بیرون ملک میں پھیلے ہوئے تیمی اخوان کے اندر اس حوالے سے بہت جوش و خروش پایاجارہا ہے ۔سینئراولڈ بوائز رابطہ مہم میں لگے ہوئے ہیں اور جامعہ کے حوالے سے موثر اور تعمیری رول اداکرنے کے لئے بڑی سنجیدگی اوردردمندی کے ساتھ غورو فکر کر رہے ہیں۔دہلی میں اس سلسلے کی متعدد نششتیں ہوچکی ہیں۔اگر اصلاحی و تعمیری عزائم ہیں تو اس کوشش کی ہمت افزائی ہونی چاہیے۔طالع آزماﺅں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ جامعہ ابن تیمیہ ہندوستان کا وہ واحد تعلیمی وتربیتی ادارہ ہے جس نے محض مختصر سی مدت میں علمی وتحقیقی پہچان بنائی ہے،اس کے فارغین ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں علم ونور کی کرنیں بکھیر رہے ہیں، اور جامعہ ابن تیمیہ علمی وفکری دنیا میں ایک محسوس حقیقت بن گئی ہے

Tuesday, May 24, 2011

Hafiz Mohammad Abu Shahma nominated Predident JDU Minority Cell of Darbhanga District of Bihar

Prominent social activist, General secretary of Madrasa Islamia ,Chairman Sunni Waqf Board Darbhanga District ,Ex Member of TAC Govt of India ,and member of many educational and welfare institutions and societies Hafiz Mohammad Abu Shahmah has been nominated President Janta Dal United Minority Cell of Darbhanga District.

Friday, March 11, 2011

خلفائے راشدین اور خدمت خلق

(1) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ :خلفیہ اول حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں میں جو اعلیٰ مقام حاصل ہے اس سے ہر شخص واقف ہے آپ خدمت خلق نہایت خاموشی اور خفیہ طریق سے انجام دیتے تھے۔ مدینہ میں ایک بڑھیا عورت تھی جس کا کام کاج حضرت عمر رضی اللہ عنہ آکر کر دیتے تھے لیکن چند روز کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ان سے پہلے کوئی اور شخص آکر گھر کی صفائی وغیرہ اور دیگر کام کر جاتا تھا ان کو اس کی جستجو ہوئی کہ آخر وہ کون اللہ کا بندہ ہے جو روزانہ خفیہ طور سے تمام کام کر جاتا ہے۔ ایک شب وہ اس کی گھات میں کہیں چھپے بیٹھے رہے تو یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہ شخص حضرت ابو بکرؓ تھے جو خلیفہ ہونے کے باوجود پوشیدہ طور پر اس ضعیفہ و نابینا عورت کے گھر آتے تھے اور اس کے تمام کام گھریلو انجام دے جاتے تھے۔ (صدیق اکبر ص:۸۳۴)
(2) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ: اسی طرح سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی خدمت خلق کے کاموں میںپیش پیش رہتے تھے اور اس میں انہیں سرور حاصل ہوتا تھا۔ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ راتوں میں رعایا کی خبر گیری کے لیے گشت لگایا کرتے تھے۔ ایک شب کو گشت کر رہے تھے کہ ایک بدو کو دیکھا کہ وہ اپنے خیمے کے باہر زمین پر بیٹھا ہوا ہے۔ ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے اور ادھر اُدھر کی باتیں کرنی شروع کیں۔ دفعتا خیمے سے رونے کی آواز آئی۔حضرت عمرؓ نے پوچھا کون روتا ہے؟ اس نے کہا کہ میری بیوی درد زہ میں مبتلا ہے۔ حضرت عمرؓ گھر پر آئے اور ام کلثوم رضی اللہ عنہا (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زوجہ) کو ساتھ لیا۔ بدو سے اجازت لے کر ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو خیمہ میں بھیج دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد بچہ پیدا ہوا۔ ام کلثومؓ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پکارا کہ اے امیر المومنین کا لفظ سن کر بدو چونک پڑا اور خوف زدہ ہو بیٹھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ نہیں کچھ خیال نہ کرو۔ کل صبح میرے پاس آنا میں اس بچہ کا وظیفہ مقرر کروں گا۔ (الفاروق ج:۳ ص:۵۶۴)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ:آپ صحابہ کرام میں دولت مندی کے اعتبار سے بہت ممتاز تھے حتیٰ کہ لفظ غنی آپ کے نام کا جزءبن چکا تھا آپ نے مخلوق خدا کی خدمت کے لیے بہت سارے کام انجام دیئے۔
(3) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے پچاس ہزار روپیہ بطور قرض لے رکھا تھا۔حضرت عثمان سے ایک دن حضرت طلحہ نے مسجد نبوی سے نکلتے ہوئے کہا کہ آپ کا قرض واپس کرنا ہے۔ میں نے اس کا انتظام کر رکھا ہے۔ آج آپ وصول کر لیجئے گا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا:”ہو لک یا ابا محمد معونة لک علی مروتک“یعنی وہ رقم اب آپ کے لیے ہبہ کر چکا ہوں۔ آپ کی مروت و ہمدردی خلق کی بنا پر اسے میں آپ کو بطور ہدیہ دے چکا ہوں۔ اب واپس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (احیاءالعلوم ج:۲ ص:۶۴۲)
ایک بار آپ نے بیئر معونہ چالیس ہزار درہم میں خرید کر وقف فرمادیاتھا۔ یہ مدینہ کا سب سے زیادہ شیریں کنواں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پر حضرت عثمانؓ کو بہت دعادی تھی اور فرمایا تھا ”سقاک اللہ من سلسبیل الجنة“ یعنی خدا تم کو جنت کے بہترین پانی سے سیراب کرے۔ (منتخب کنزل العمال ج:۵ ص:۱۱)
(4)حضرت علی رضی اللہ عنہ:علامہ غزالی نے احیاءالعلوم میں ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے ان کے خلق خدا کے ساتھ ہمیشہ اعانت اور امداد کرنے کا صحیح اندازہ ہوتا ہے، واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص رات کے دس گیارہ بجے آپ کے دولت خانہ پر حاضر ہوا اور اس نے اپنی آواز بلند کی۔ حضرت علیؓ نے یہ آواز سنی تو کہا کہ ابھی حاضر ہوتا ہوں لیکن حضرت علیؓ کو اس کے پاس پہنچنے میں چند منٹ دیر ہو گئی حضرت علیؓ نے سوچا کہ شاید وہ بھوکا ہو گا تو پہلے ایک ناشتہ دان میں کھانا لیا۔ پھر سوچا کہ شاید اس کو کپڑے کی حاجت ہو تو آپ نے توشہ خانے سے دو تین جوڑا کپڑا لیا۔ پھر اس کے بعد خیال ہوا شاید اس پر قرض ہو تو چار ہزار روپیہ لیا۔ پھر سوچا کہ شاید اس کو خادم کی ضرورت ہو تو ایک خادم بھی لیا پھر سوچا کہ شاید اس کو سواری کی ضرورت ہو تو اصطبل سے ایک گھوڑا لیا سب سامان حاصل کرنے میں کچھ تاخیر ہو گئی تو آپ نے مسکین دوست کے پاس حاضر ہو کر کہا مجھے ان چیزوں کے حاصل کرنے میں کچھ تاخیر ہو گئی ہے اور کہا کہ یہ سب سامان قبول کر لیجئے۔ آپ کو شاید ان سب چیزوں کی ضرورت پڑے گی۔ اس لیے سب چیزیں آپ کے لیے لے کر حاضر ہوا ہوں۔ اس کے بعد گھر میں جا کر رونے لگے۔ گھر والوں نے کہا کہ اگر ان چیزوں کا آپ پرگراں تھیں تو ان چیزوں کو نہ دیتے۔ فرمایا کہ ان چیزوں کے دینے کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میں اپنے دوست کی حاجات سے بے خبر رہا۔ حتیٰ کہ اس کو میرے پاس آنے اور سوال کرنے کی ضرورت پڑگئی۔ (احیاءالعلوم ج:۳، ص:۵۴۲)

Tuesday, March 8, 2011

تحفظ حقوق حیوانات اور تعلیمات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

 

by Shees Taimi on Friday, March 4, 2011 at 5:18pm
 ”وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا“ خواجہ حالی مرحوم کا یہ مشہور زمانہ نعتیہ مصرعہ محض ایک شاعرانہ تخیل کی پرواز اور جودت طبع کی اپج نہیں بلکہ یہ ایک ایسی جاوداں حقیقت ہے جس کی تائید خود آسمان والے نے بھی کی ہے کہ ”اے نبی ہم نے آپ کو تمام کائنات کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔“ (الانبیائ:۷۰۱) چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت کی برکھا سے ایک طرف دنیائے انسانیت فیضیاب ہورہی ہے تو دوسری طرف آپ کے چشمہ امن اور فیضانِ رحمت سے حیوانات (چرند و پرند) بھی آسودگی حاصل کررہے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوانوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کے ساتھ حسن ِ سلوک کا رویہ اختیار کرنے کا تصور دنیا کو اس وقت دیا جب کہ دنیا کے اندر حیوانات سے متعلق دو مختلف و متضاد اور غیر متوازن نظریے کام کررہے تھے، ایک طرف حیوان پرستی عام تھی تو دوسری طرف اس کو بے روح اور متحرک مشین تصور کیا جاتا تھا، حتیٰ کہ رومیوں کے یہاں حیوانوں کے وحشت ناک کھیلوں کا رواج تھا اور ان کو لڑانے کے لیے وہاں بڑے بڑے اسٹیڈیم قائم تھے۔ (انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا، موضوع: Animal Worship)
گو گزشتہ چند برسوں میں مغرب کے اندر حیوانوں کی فلاح و بہبود کے تعلق سے بیدار ی آئی ہے اور اس کی دیکھا دیکھی دنیا کے دیگر ممالک میں بھی حیوانات کے تحفظ حقوق کی سوسائٹیاں اور ان کے اوپر مظالم کے خلاف تحریکیں (Anti Cruity Movement) وجود میں آئی ہیں لیکن اس سب کے باوجود اب تک حیوانوں کو وہ تحفظات فراہم نہیں ہوسکے ہیں جن کے وہ فطرتاً مستحق ہیں۔ وجہ ظاہر ہے کہ یہ ادارے ان ناروا افراط و تفریط پر مبنی نظریات پر قائم کیے گئے ہیں جن سے قانون فطرت کی کھلی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پیشتر حیوانوں کے بارے میں جو تصور دیا تھا، وہ نہایت ہی متوازن اور ہر زمانے میں برتے جانے کے قابل ہے۔ آپ نے جہاں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانوں کو انسانوں کے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے ان سے جائز فائدے اٹھائے جائیں، وہاں آپ نے یہ بھی صراحت فرمائی کہ ان کی خاص طور پر دیکھ ریکھ کی جائے، ان کو ستایا نہ جائے، انھیں بلا ضرورت ایذا نہ پہنچائی جائے، ان کے خورونوش کا معقول انتظام کیا جائے اور ان کو ہر ممکن طور پر آرام پہنچایا جائے۔ کتب احادیث ان روشن تعلیمات سے بھری پڑی ہیں۔ سننِ ابوداود کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ کھجور کے باغ کے احاطے میں تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک اونٹ مارے بھوک کے بلبلا رہا ہے۔ آپ اس کے پاس گئے اور اس کے سر پر دستِ شفقت پھیرا۔ پھر دریافت فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ ایک انصاری نوجوان آگے بڑھا اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ میرا اونٹ ہے۔ آپ نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ”کیا اس جانور کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے جس کا اس نے تمھیں مالک بنایا ہے۔“
(ابوداود، کتاب الجہاد)


اسی طرح ایک مرتبہ مشہور صحابی رسول حضرت سراقہ بن جعثم نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کے لیے حوض بنارکھے ہیں۔ کبھی کبھی بھولے بھٹکے دوسرے اونٹ بھی ان پر آجاتے ہیں۔ اگر میں ان کو پانی پلادوں تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، ہر جانور کو آرام پہنچانے پر اجر ملتا ہے۔
(ابن ماجہ، کتاب الادب)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جانوروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی حفاظت کا جذبہ کس قدر موجزن تھا اس کا اندازہ اس روایت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جس میں کتے کو پانی پلانے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد دفرمایا: ایک کتا سخت گرمی میں ایک کنویں کے گرد چکر لگارہا تھا، پیاس کی شدت سے اس کی زبان باہر نکل آئی تھی، ایک عورت نے اسے اس حال میں دیکھا تو (اسے بڑا ترس آیا، اس کے پاس کنویں سے پانی نکالنے کی کوئی چیز نہیں تھی) اس نے اپنا موزہ نکالا اور اس میں پانی بھر کر اس کتے کو پلادیا۔ وہ عورت بدکار تھی۔ اس عمل کی وجہ سے اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی۔ (بخاری، کتاب الانبیائ)

اور اس کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرا واقعہ بیان فرمایا کہ ایک عورت نے ایک بلی کو باندھ رکھا، اس کو کھانے پینے کے لیے کچھ دیا اور نہ اسے آزاد ہی چھوڑا کہ وہ اپنی روزی از خود تلاش کرلے۔ یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ اس بنا پر وہ عورت اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مستحق ٹھہری۔ (بخاری، کتاب الشرب و المساقات)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک ہی کی تعلیم نہیں دی بلکہ ان کو اذیت رسانی کے جملہ وسائل و اسالیب کی بھی ممانعت فرمائی اور اس فعل کو سراسر گناہ قرار دیا، ایک مرتبہ کا ذکر ہے، آپ نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: تم لوگ جانوروں کے ساتھ جو سلوک کیا کرتے ہو، اگر انھیں معاف کردیا جائے تو سمجھ لو کہ تمھارے بہت سارے گناہ معاف کردئے گئے۔ (احمد)

عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ بکری یا بھیڑ کے گلے میں رسی ڈال کی چلانے یا ہانکنے کے بجائے اس کا کان پکڑ کی کھینچتے ہیں اور انھیں ذرا بھی یہ خیال نہیں آتا کہ اس بے زبان مخلوق کو کس قدر تکلیف پہنچ رہی ہے۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ کا گزر ایسے شخص سے ہوا جو ایک بکری کا کان پکڑے ہوئے اسے کھینچ کر لے جارہا تھا۔ آپ نے فرمایا اس کا کان چھوڑ دواور گردن کا اگلا حصہ پکڑلو۔
(ابن ماجہ)
بعینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کی پیٹھ کو اسٹیج بنانے کی بھی ممانعت فرمائی۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے جانوروں کو منبر نہ بناو۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تمھارے قبضے میں اس لیے دیا ہے کہ ان کے ذریعہ ان مقامات تک پہنچ سکو جہاں تم سخت جان فشانی کے بعد ہی پہنچ سکتے تھے۔ (منبر کے لیے) اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی ہے، اس پر اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ (سنن ابوداود، کتاب الجہاد)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانوروں کی راحت و آرام کا کتنا خیال تھا؟ اس کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گوشت خوری جو انسانی زندگی کی فطری ضرورت ہے،اور اس جس کی وجہ سے انسان اس بات پر مجبور ہے کہ وہ لا محالہ حسب ضرورت جانور ذبح کرے لیکن قربان جائےے آپ کی رحمة للعالمینی پر کہ آپ نے اس ناگزیر صورت حال میں بھی جانوروںکے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور فرمایا کہ جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر احسان کرو (اور احسان کی صورت یہ بتائی کہ چھری خوب تیز کرلو) مبادا انھیں زیاد تکلیف پہنچے اور ذبیحے کو آرام پہنچاو۔ (مسلم)

مدینے کے لوگوں کی یہ عادت تھی کہ وہ زندہ اونٹ کے کوہان اور بکری کی چکتی کاٹ کر کھالیتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس بہیمانہ روےے پر روک لگائی اور کہا کہ کسی زندہ جانور کے جسم کا کوئی ٹکڑا کاٹ لیا جائے تو وہ مردار کے حکم میں ہے اسے نہیں کھایا جائے گا۔ (ترمذی)

اسی طرح عرب میں یہ رواج بھی عام تھا کہ لوگ پرندوں کو پکڑ کر ان پر نشانہ بازی کیا کرتے تھے جو بہر حال ایک خلافِ انسانیت اور نہایت سنگدلانہ عمل تھا۔ آپ نے ایسا کرنے والوں کو ملعون قرار دیا (مسلم کتاب الصید) اور ان لوگوں پر لعنت فرمائی جو جانوروں کے چہرے پر مارتے یا اسے داغتے ہیں۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک گدھے کے پاس سے ہوا جس کے چہرے کو داغا گیا تھا۔ آپ یہ منظر دیکھ کر بے تاب ہوگئے اور یہ بددعا فرمائی: ”اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے اسے داغا ہے۔“
(مسلم: کتاب اللباس والزینة)

جانوروں کے بارے میں آپ کی ایک تعلیم یہ بھی ہے کہ کسی بچہ کو اس کی ماں سے جدا نہ کیا جائے۔ اس سے ماں اور بچے دونوں کو قدرتاً تکلیف پہنچتی ہے۔ مشہور صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اس سلسلے میں اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، اس دوران ہم نے ایک گھونسلے میں حمرہ نامی پرندہ اور اس کے دو بچے دیکھے۔ ہم نے بچوں کو لے لیا۔ یہ دیکھ کر وہ پرندہ ہمارے گرد منڈلانے اور پھڑپھڑانے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس تشریف لائے تو فرماےا۔ پرندے کے بچوں کو لے کر اس کو کس نے تکلیف پہنچائی ہے۔ انھیں فوراً واپس کردو۔ (سنن ابوداود)
یہ ہیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیوانات سے متعلق مبنی بر رحمت و شفقت تعلیمات جن کی روشنی میں یہ فیصلہ بہ آسانی کیا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسانوں ہی کے بہی خواہ اور ہمدرد نہ تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارانِ رحمت چرند و پرند اور ساری کائنات کے لیے عام تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے لیے یکساں غمگسار اور محافظ حقوق تھے۔ جو لوگ شب و روز اسلام کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کرتے نہیں تھکتے کہ یہ تشدد کا مذہب ہے ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے جانوروں کے ساتھ پیغمبر اسلام کا یہ قابل تقلید عمل و برتاو اور رویہ کافی ہے۔ ٭٭٭

( محمد شیث ادریس تیمی)

گودھرا فیصلے پر کئی اہم سوال

 

by
سہیل حلیم

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
گودھرا کے نو سال بعد اکتیس افراد کو انتہائی سخت سزائیں تو سنا دی گئی ہیں لیکن ملک کے کئی سرکردہ مبصرین کا خیال ہے کہ اس کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے ہیں۔

گودھرا میں ستائیس فروری دو ہزار دو کی صبح سابرمتی ایکسپریس کے ایک ڈبے میں آگ لگنے کے سبب انسٹھ ہندو کارسیوک ہلاک ہوگئے تھے۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا۔ اس نے گیارہ افراد کو موت اور بیس کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

ٹرین پر حملے کے بعد گجرات میں مذہبی فسادات بھڑک اٹھے تھے جن میں سینکڑوں کی تعداد میں مسلمان مارے گئے تھے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ریاست میں نریندر مودی کی حکومت نے ان فسادات کو روکنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تھی۔

انگریزی روزنامے ہندوستان ٹائمز کے سینیئر صحافی اور کالم نگار پنکج ووہرا کا کہنا ہے ’میں نے گودھرا کے واقعے اور اس کے بعد رونما ہونے والے فسادات کا بہت قریب سے جائزہ لیا تھا کیونکہ ان دونوں میں گہرا تعلق تھا۔ لیکن کئی اہم سوال ایسے ہیں جن کا عدالت کے فیصلےسے جواب نہیں ملتا۔اگر واقعی کوئی سازش تھی تو اصل ملزم مولوی عمر جی کو کیوں بری کر دیا گیا؟ اور بری کیے جانے والے ان تریسٹھ لوگوں کے بارے میں کون جواب دے گا جنہیں اپنی زندگی کے نو سال جیل میں گزارنے پڑے؟‘

’لیکن اس فیصلے سے قطع نظر میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ گودھرا کے واقعے میں سازش کا پہلو شامل تھا۔ میرے آنجہانی دوست (گجرات کے سابق وزیر داخلہ ہرین پانڈیا) نے مجھے بتایا تھا کہ گجرات بی جے پی کے ہاتھوں سے پھسل رہا تھا اور پارٹی کو ہر سطح پر انتخابی ناکامی کا سامنا تھا۔ کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں، اور پھر گودھرا کا واقعہ ہوا جس کا سیاسی فائدہ اٹھایا گیا‘۔

پنکج ووہرا اپنے بلاگ میں لکھتے ہیں کہ اس وقت کے وزیر ریلوے لالو پرساد یادو کے تشکیل کردہ یو سی بنرجی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کئی دلچسپ پہلوؤں پر روشنی ڈالی تھی جن سے سازش کے پہلو کی نفی ہوتی ہے لیکن اس رپورٹ کو مسترد کردیا گیا۔

تجزیہ نگار کلدیپ نیر کا کہنا ہے کہ ’گودھرا کے واقعہ اور گجرات کے فسادات کی جس نااہلی سے تفتیش کی گئی اس سے ہندوستان کے عدالتی نظام کی خامیاں اجاگر ہوتی ہیں اور اس سے شدت پسندوں کو تقویت حاصل ہوگی‘۔

انگریزی اخبار گلف نیوز میں لکھتے ہوئے کلدیپ نیر کہتے ہیں کہ ’مجھے زیادہ فکر سازش کے الزام پر ہے جو بظاہر ثابت ہوگیا ہے۔ اس فیصلے کو اب بی جے پی فسادات کا جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرے گی‘۔

Prof Moinuddin Salafi (1945-2011)

 
by Shees Taimi on Thursday, March 3, 2011 at 4:44pm
Prof. Moinuddin Salafi left for his heavenly abode of heart attack on 22 January, 2011 at the age of 66 at his native place Garhahiya (Shewhar), Bihar. The funeral prayer was offered after ‘’ Asr Prayer and buried on 23 January, 2011, in Garhahiya grave yard. A large number of Muslims of different maslaks attended the prayer and expressed their grief on the sad demice of the Professor.He is survived by his wife, 4 sons and two daughters.
Prof. Moinuddin was a great scholar and a good administrator as well as a pious person. He served the community, and struggled hard for the promotion and propagation of Islam. He was always ready to help the religious institutions, Madarsas and Schools and Muslim students. He was always very much concerned about all Muslim organizations and was very friendly with the people . He was very tolerant and education-friendly. He was kind, friendly, humble and generous. He was a man who assisted all his brothers,cusions,numbering to 8 and extended love and affection to them. He made his family members an exemplary in the area. He made the family of an academic excellence.Prof. Moinuddin Salafi served department of Persian at Nateshwar College Muzaffarpur as a Professor of Persian. The deceased was secretary of Madarsa Darut Takmeel, Muzaffarpur from 1993 to Sept. 2011 (almost 18 years). He was one of the founder member, special advisor to Dr. Mohammad Luqman Salafi and member of Executive Council of Jamia Ibn Taimiya, Champaran Bihar and struggled hard for the development and promotion of this great Islamic Institution .
Besides all these he also served as the Secretary Madarsa Imam Abdul Aziz Raheem Abadi at Sitamarhi, Bihar and through his tireless effort 7 Katha land was purchased at Mihsawl chowk for the said Madarsa. He was also the patron of Al-Jamiatus Salihat Garhahiya for Muslim girls upto the fawqania standard.
He was invited to attend the educational and cultural conference in Tehran, and present his treatise. He was frequently invited to attend educational conferences and seminars organized by Iranian Embassy in Delhi.
Prof. Moinuddin’s got his early education at home. For two years attended Madarsa Islahul Muslimeen, Patna. He got his Alamiat and Fazilat from Madarsa Ahmadia Salafia, Laherya Sarai. Derbhanga in 1962, obtained B.A. (Hons) from Bihar University, double M.A. in Urdu and Persian (First class first). He was gold medalist. He obtained Ph.D from Bihar University. His supervisor recommended his Ph.D thesis to be published and kept in liberaries for general benefit of research scholors. Prof. Moinuddin was an examiner and supervised several research scholars.May Allah forgive his sins and give him a high place in the heaven.(Aameen)

Friday, February 25, 2011

Family Planing is prohibited in Islam

فیملی پلاننگ اسلام میں ممنوع ہے
محمد شیث ادریس تیمی
۸۹۷۱ئمیں تھامس مالتھس نے آبادی اور زمینی وسائل کے عدم تناسب کا جو ناروا نظر یہ پیش کیا تھا اس نے بیسویںصدی عیسوی کے امریکی و یورپی پالیسی سازوں کے لئے فیملی پلاننگ یابرتھ کنٹرول کی اساس فراہم کی تھی اور جو ذرائع ابلاغ کے فیض سے دیکھتے ہی دیکھتے امربیل کی طرح مغرب سے لے کر مشرقی دنیاتک پھیل گیا اوربرتھ کنٹرول کے لئے بڑی خوب صورتی کے ساتھ یہ جواز فراہم کیا گیا کہ اگر انسانی آبادی روز بروزاسی طرح بڑھتی رہی اور اس پر کنٹرول نہیں کیا گیا تو انسانی وسائل بہت جلد ختم ہوجائیںگے اور انسانی زندگی افلاس و تنگدستی سے دوچار ہوجائے گی۔ جب کہ اس پرو پیگنڈے کی فی الواقع کوئی معاشی بنیادکبھی تھی اور نہ آج ہے ۔بلکہ ضبط ولادت کی اصل وجہ جہاں معاشرتی و تمدنی تھی کہ انسان مادرو پدر آزاد ماحول میں حظ نفس سے بہرہ مند ہو اور اسے بال بچوں کے جھمیلوں سے بھی راحت ملے،وہاں ایک بڑی وجہ سیاسی بھی تھی کہ ترقی پذےر اورپسماندہ ممالک پرپکڑبنی رہے اوردبدبہ برقرار رہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک عرصہ سے آبادی کی بہہود اور انسانیت کی بھلائی کے نام پر امریکہ،یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کی طرف سے کروڑوں ڈالرز پسماندہ قوموں اور ترقی پزیر ممالک پر بے دریغ خرچ کئے جارہے ہیں اور بد قسمتی سے ہمارا ملک بھی اس ناجائز مہم میں برابر کا شریک ہوگیا ہے۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ فیملی پلاننگ یا برتھ کنٹرول سے نہ صرف نسل انسانی کی بقا وتحفظ خطرے میں ہے بلکہ یہ آبادی اور زمینی وسائل کی کمیابی کا بھی باعث ہے ۔ کسی بھی قوم کے افراد جس قدر زیادہ ہوںگے اس کی قوت عمل و اکتساب اسی قدر زیادہ ہوگی اور اس کے یہاں وسائل کی اسی قدر فراوانی ہوگی ۔یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والی قوموں کو دیکھا گیاہے کہ انہوںنے تکثیری آبادی کی روش اختیار کی تھی۔بلاشبہ برتھ کنٹرول ظلم،قانون فطرت سے بغاوت ا ور ایک منفی رویہ ہے،اس سے نہ صرف انسانی وسائل معرض خطرمےں ہےں بلکہ اس غیر فطری وغےرانسانی عمل سے صحت و اخلاق انسانی میں زوال و انحطاط آتا ہے۔
چنانچہ اسلام جو کہ دین فطرت ہے نکاح کی ترغیب دے کر نسل انسانی کی بقا ،افزائش اور تحفط کی بات کرتا ہے۔وہ اولاد کو مصیبت نہیں بلکہ اللہ کی بے بہا نعمت قرار دیتا ہے ۔
قرآن کریم میں ہے ۔”اللہ نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں بنائیںاور تمہاری بیویوں سے تمہارے پوتے اور تمہارے نواسے “۔(النحل)” تمہاری اموال اور بیٹوں سے مدد فرمائی۔اور تمہیں کثرت اولاد سے نوازا “(الاسرائ) قوم نوح سے استغفار کرنے پر مال و اولاد کا وعدہ کیاگیا ۔اور نبی رحمت حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا۔”بہت زیادہ محبت کرنے والی اور بہت زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو“۔
مذہب اسلام جہاں کثرت اولاد کو نعمت قرار دیتا ہے وہاں نسل انسانی میں افزائش اور اس کے تحفظ کوبھی ےقےنی بناتا ہے ۔ساتھ ہی نہایت منطقی انداز میں اس باطل نظر یہ کی بیخ کنی بھی کرتا ہے جس کی رو سے لوگ جنین کشی اور برتھ کنٹرول جےسے جرم کا ارتکاب کرتے ہےں۔ قرآن مےں ہے ”اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو ، ہم تمہےں بھی رزق دےتے ہےں اوران کو بھی دےں گے “(الانعام)اور” قتل نہ کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے ان کو بھی رزق دےنے والے ہم ہی ہےں اورتم کو بھی ،ان کو قتل کرنا اےک بڑی خطا ہے۔“(الاسرائ)”اور کتنے ہی جاندار ہےں کہ اپنا رزق اٹھائے نہےں پھرتے ۔اللہ ہی ان کو رزق دےتا ہے وہی تم کو بھی رزق دے گا۔“(العنکبوت)
بلاشبہ ضبط ولادت کا فلسفہ اللہ تعالی کے کمال انتظام پر نکتہ چےنی ہے کہ وہ تخلےق انسانی کے بعد نعوذ باللہ اس بات سے غافل ہوجاتا ہے کہ اس کو معاش کہاں سے فراہم ہوگا اور وہ اس بات سے لا علم ہے کہ زمےں مےں کس قدر گنجائش ہے۔ ےہ نادان بھول گئے ہےں کہ اللہ تعالی نے دنےا کی ہرچےز کو اندازے سے پےدا کےا ہے (القمر)اوراللہ تعالی دنےا کے انتظام سے غافل نہےں ہے۔ جب اللہ تعالی ہر جاندار کو رزق فراہم کرتا ہے (الہود)توبنونوع انسان کوجوکہ افضل ترےن مخلوق ہے رزق کےوں نہےں دے گا۔کےا دےکھتے نہےں کہ بچہ جےسے ہی پےدا ہوتا ہے کس طرح اللہ تعالی اس کے لےے ماں کے سےنے مےں دودھ کی شکل مےں رزق کا انتظام کرتاہے۔ اسی طرح وقتا فوقتا سےلاب ، طوفان، وبائی امراض اور زلزلے اسی لےے آتے ہےں اوربڑی سے بڑی آبادی ملےامےٹ ہوجاتی ہے کہ آبادی مےں توازن برقرار رہے۔
مختصرےہ کہ اسلام مےں برتھ کنٹرول ممنوع اورحرام ہے اورہم دو اورہمارے دو کا نظرےہ بالکل فاسد اور اللہ تعالی کے قانون فطرت سے بغاوت اور اپنی ذمہ داری سے فرارکانتےجہ ہے۔ ےہ برتھ کنٹرول ہی کی دےن ہے کہ آج مغرب مےں بچہ گود لےنے کی ہوڑسی مچی ہوئی ہے اور من پسندجنس کے بچوں کی خرےدوفروخت کا بازار گرم ہے جوکہ کسی بھی مہذب قوم کے لےے اےک کلنک ہے ۔اسلام مےں بعض حالات مےں ناگزےرانفرادی ضرورت کے پےش نظر برتھ کنٹرول جائز ہے جس کی فقہاءنے حدوداورشرائط متعےن کی ہےں اورجس کے لےے جائز وسائل اختےار کےے جاسکتے ہےں مثلا ےہ کہ اگر ماں کی جان کو بچے کی پےدائش سے خطرہ لاحق ہو تواےسی صورت مےں برتھ کنٹرول کےا جاسکتا ہے ۔ فقر ےا کسی اورمادی وجہ سے برتھ کنٹرول حرام ہے جہاں تک عزل کی بات ہے تواہل علم اور زہاد صحابہ اسے کبھی پسند نہےں فرماتے تھے۔ اس لےے اس کو برتھ کنٹرول کے لےے دلےل نہےں بناےا جاسکتا۔
٭٭٭