جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ سائنس اورٹکنالوجی کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں انسانوں نے کافی ترقی کی ہے، ہرروز نئے نئے انکشافات ہورہے ھین اورایجادات سامنے آرہی ہیں۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کی برق رفتاری نے دنیا کوایک گاﺅن بنادیا ہے،مادیت کاسیلاب ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا، جدھر دیکھو سامان عیش ونشاط کی فراوانی ہے ، شہرتوشہر اب دیہات بھی رفتہ رفتہ جدید سہولیات سے آراستہ ہورہے ہیں، سوائے ایک انسانیت کی بستی کے ،کہ جسے اجڑے ہوئے طویل عرصہ بیت چکا ہے ۔ اخلاق وروحانیت کہیں اور جاکر بس گئی ہے ۔ اخوت وبھائی چارے کاچمن ویران پڑا ہے۔ امن وشانتی کے عنادل خوش نوائی کو ترس گئے ہیں۔ حقوق انسانی بازیچہ اطفال بن کر رہ گئے ہیں۔ہرطرف سراسیمگی چھائی ہوئی ہے ۔ انسان خود اپنے ابنائے نوع سے خوف زدہ ہے۔ کس وقت اور کہاں کوئی دھماکہ ہوجائے ، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اخلاق وقانون کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ سپر پاور چند گھڑیوں میں ہنستے کھیلتے ملکوں کو افغانستان وعراق بنادیتا ہے ،حکومتوں کے وزراء اور اعلی حکام سے لے کر کلرک اور پیون تک کرپشن میں ملوث ہیں۔ آزادی نسواں کے بینر تلے حو ازادیوں کا مختلف طریقوں سے استحصال ہورہا ہے ۔ فنون لطیفہ کے نام پر بے حیائی وفحش کاری کو فروغ دیاجارہا ہے خدا بے زاری کی لعنت نے انسان کو کہیںکا نہیں چھوڑا ہے ۔ ہرشخص اپنے پرامن مستقبل کے تئیں فکر مند اور پریشان ہے ، یہی ہے کہ وہ قلبی راحت وسکون کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف ازموں اورفلسفوں کو آزمارہا ہے اورجنگلوں اور پہاڑوں کا رخ کررہا ہے۔لیکن کہیں بھی اسے ایک پل کے لیے قرار حاصل نہیں ہوتا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ انسانی دنیا اس طرح کے ناگفتہ دور سے آج سے چودہ سوسال قبل بھی گزر چکی ہے، جب انسانیت زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ ایک صحرائے عرب کیا بلکہ ساری دنیامیں بدامنی وابتری پھیلی ہوئی تھی، خوف ودہشت اور معاشی استحصال کا دور دورہ تھا، امن وقانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی تھی، اعلیٰ انسانی قدروں کا جنازہ اٹھ چکا تھا۔ بچیاں زندہ درگور کردی جاتی تھیں۔ غلاموں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیاجاتاتھا۔ عورتیں ہرطرح کے حقوق سے محروم تھیں، طاقت ور کمزوروں کو نگلے جارہا تھا،خدا فراموشی کے سبب ان گنت معاشرتی واخلاقی بیماریاں جنم لے چکی تھیں۔ شراب نوشی، قمار بازی، بے حیائی وحرام کاری، لوٹ کھسوٹ، قتل وغارت گری اور ارواح خبیثہ کی پرستش عام بات تھی۔ ایسے پرآشوب دور میں مرغ زار عرب میںمسیحائے انسانیت، رحمة للعالمین ، احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ،جہاں سے عروج انسانیت کی تاریخ شروع ہوئی۔
اہل سیر لکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت اور نشو ونما یتیمی کے سایے میں ہوئی، لیکن عام یتیموں کے برعکس آپ عنفوان شباب سے ہی اعلیٰ انسانی قدروں کے دلدادہ تھے اور آپ کا وجود ان تمام خوبیوں اور کمالات کاحسےن گل دستہ تھا جو متفرق طورپر پائے جاتے ہیں۔آپ کے اندر عزم واستقلال، شجاعت ودلیری، صبر وشکر، توکل واعتماد، ایثار وقربانی،قناعت واستغناء،جود وسخا، تواضع وخاکساری جیسی بوقلموں اور متضاد صفات اس خوبی کے ساتھ موجود تھیں کہ گویا آپ کی ذات گرامی دنیا کا عظیم آئینہ خانہ ہو اور اس میں دیکھ کر ہرشخص بہ اندازہ ¿ ہمت اپنے روح وجسم ، تصور ووجدان، ظاہر وباطن اور اخلاق وعادات کی اصلاح کررہا ہو۔ نزول وحی کے تاریخی موڑ پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کافی نروس ہورہے تھے، آپ کی رفیقہ حیات سیدہ خدیجة الکبریؓ نے آپ کی دلجوئی کے لیے جو کلمات کہے ان سے بھی اخلاق کریمانہ پر روشنی پڑتی ہے ۔ حضرت خدیجہؓ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا، اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، درماندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تہی دستوں کی مدد کرتے ہیں،مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور راہِ حق کی مصیبتوں میں اعانت کرتے ہیں۔“(بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ کا یہ اعجاز ہے کہ عرش والے نے بھی اس کی شہادت دی، فرمایا، بلاشبہ آپ اخلاق کے نہایت بلند مرتبے پرفائز ہیں(القلم:۴) حتی کہ مشرکین مکہ،جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن تھے، بھی آپ کی صداقت وامانت اورسچائی وراست بازی کے دل وجان سے قائل تھے۔ ابوجہل کہا کرتا تھا، محمد میں تم کو جھوٹا نہیں کہتا، البتہ تم جو پیغام لائے ہو اس کو صحیح نہیں مانتا(ترمذی) اہل مکہ کو جن قیمتی اشیاءکے ضائع ہونے کا خوف ہوتا وہ انہیں حضور کے پاس بطور امانت رکھ دیتے تھے۔ شب ہجرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو مکہ میںاس لیے چھوڑ گئے کہ وہ لوگوں کی امانتیں جو آپ کے پاس جمع تھیں ان کو واپس کردیں۔(ابن ہشام)
عفو ودرگزر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیازی وصف تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ آپ نے کبھی اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ نہیں لیا(بخاری) اورنہ ہی کسی کی برائی کا بدلہ برائی سے دیا(ترمذی) حتی کہ آنحضور نے دشمن جاں کو بھی بخش دیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے سے واپسی میںایک درخت کے نیچے استراحت فرماہوئے، آپ نے اپنی تلوار درخت سے لٹکادی ۔ ہم لوگ بھی کچھ دوری پر آرام کررہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم کی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بلارہے تھے۔ جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک بدو بیٹھاہوا ہے ۔ آپ نے فرمایا: میں سورہاتھا کہ اس شخص نے میری تلوار کھینچ لی، میں فوراً بیدار ہوا، دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں تلوار بے نیام ہے اورکہہ رہا ہے کہ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا:اللہ(یہ سننا تھا کہ اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ گئی اور میں نے اسے اٹھالیا)حضرت جابر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد آپ نے اس سے بدلہ نہیںلیا۔(بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوئہ عفوودرگزر صرف نجی زندگی تک محدود نہیں تھابلکہ آپ نے عفو عام کامظاہرہ اس وقت بھی کیا جب آپ اسلامی ریاست کے ذمہ دار ا علیٰ تھے۔ مکہ کے شریروں کو کون نہیں جانتا جنہوں نے تقریباً۹۱ سالوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیارے اصحاب کاعرصہ حیات تنگ کررکھا تھا۔ جن کی وجہ سے انہیں ہجرت کے تلخ ترین دور سے گزرنا پڑا اور بدر وحنین جیسے معرکہ ہائے سخت جان سے دوچار ہوئے ۔ یہ اپنی ان غیر انسانی حرکتوں کے سبب اخلاقاً کسی رعایت کے مستحق نہ تھے، دنیا کا سارا قانون انہیں مجرم قرار دے چکا تھا لیکن فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف کردیا اور فرمایا:” آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، جاو! تم سب آزاد ہو۔“(ابن ہشام)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ایک درخشاں وتابناک پہلو توازن واعتدال پسندی ہے ۔ آپ نے عبادات ہو یامعاملات ہرباب میںہمیشہ متوازن اور آسان راہ اختیار فرمائی۔ آپ کے شوق عبادت کی کیفیت یہ تھی کہ رات میںلمبے قیام کی وجہ سے پائے مبارک متورم ہوجاتے ۔ زبان اقدس ہرگھڑی یادالٰہی میں زمزمہ سنج ہوتی۔ روزے کا بھی اہتمام تھا، فقر وفاقہ کے تکلیف دہ مراحل سے بھی گزرے ،لیکن اس سب کے باوجود آپ کو تقشف ورہبانیت کبھی پسند نہےں تھی۔ آپ نے شادیاں بھی کیں، مخلوقات خدا سے تعلقات بھی استوار کیے، ابتدائی ایام میں خود بھی تجارت سے شغل فرمایااورصحابہ کو بھی تجارت اور کسب حلال کی تلقین کی، آپ نے فرمایا:ہاتھ کے کام سے بہتر انسان کی کوئی روزی نہیں، اللہ کے نبی حضرت داو ¿د علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔(بخاری) اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک محفل میںپر سوز نصیحتوں کے سبب آنسووں اور سسکیوں کا سماں بندھ جاتا تو آپ کی شگفتہ مزاجی اورخوش طبعی سے مجلس رشک گلزار بھی بن جاتی۔ ایک مرتبہ ایک ضعیفہ خدمت رسالت میں حاضر ہوئی کہ حضور اس کے لیے جنت کی دعا کردیں ارشاد ہوا، بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ ضعیفہ کو بہت ملال ہوا اور روتی ہوئی واپس چلی آئی، آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ بوڑھی عورتیں جنت میں ضرورجائیں گی مگر جوان ہوکر۔(ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز شباب ہی سے امن پسند، صلح جو اور حق کے طرف دار تھے۔ ابن ہشام کا بیان ہے کہ مکہ میں قیام امن اورمظلوم کی دادرسی وحمایت کے لیے ’حلف الفضول‘ کے نام سے ایک کمیٹی بنی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں شریک تھے۔ حالانکہ آپ کی عمر اس وقت پندرہ سال سے زائد نہ تھی۔ آپ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں عبداللہ بن جدعان کے مکان پر (جہاں حلف الفضول قائم ہوئی تھی) ایسے معاہدے میں شریک تھا کہ مجھے اس کے عوض سرخ اونٹ بھی پسند نہیں اور اگر دور اسلام میں اس عہد وپیمان کے لیے بلایاجاتا تومیں لبیک کہتا۔(ابن ہشام) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تینتیس سال کی ہوئی تو قریش نے کعبہ شریف کی تعمیر نو کی۔ حجر اسود کو اس کے مقام پر نصب کرنے کے مسئلہ پر تنازعہ ہوگیا۔ ہرقبیلہ خود کو اس شرف کا حق دار سمجھ رہا تھا۔ قریب تھا کہ کشت وخوں کی نوبت آجائے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال فراست نے اس آگ کو بجھادیا(ابن ہشام) آنحضرت کی نگاہ میں انسانی جان کی اس قدر اہمیت تھی کہ آپ نے قتل ناحق کو گناہ کبیرہ قرار دیا۔(بخاری ومسلم) حتی کہ ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل بتایا(المائدہ:۲۳) خطبہ حجة الوداع میںانسانی جان کو محترم قرار دیتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا۔” لوگو! تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے ۔ جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور اس شہر کی حرمت۔“(ابن ہشام)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا اس حقیقت سے ناآشنا تھی کہ آزادی ¿ رائے وضمیر انسان کا بنیادی حق ہے اور یہ کہ وہ جس مذہب اور فکر وفلسفہ کو چاہے اختیار کرسکتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ حقوق انسانی کی بات کہی اور دنیاکو یہ تعلیم دی کہ دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔(البقرہ:۶۵۲) آپ کو یہ ہرگز پسند نہ تھا کہ دین وعقیدہ کے معاملے میں تشدد کی راہ اختیار کی جائے۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک یہودی نے سربازار کہا، قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ کو تمام انبیاءپر فضیلت دی، ایک صحابی یہ کھڑے سن رہے تھے، ان سے رہا نہ گیا، انہوں نے پوچھا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی۔ اس نے کہا ہاں، یہ سن کر صحابی رسول نے غصے میں اسے تھپڑ رسیدکردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو ان صحابی پر برہمی کا اظہار فرمایا(بخاری) آپ کی تعلیم یہ بھی تھی کہ کسی کے مذہبی پیشوا کو برا بھلا مت کہو(انعام:۸۰۱) اس سے آپس میں نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دلوں کو جوڑنے کے لیے آئے تھے آپ کی انتہائی آرزو تھی کہ لوگ قبیلہ، زبان، ملک اور مذہب کے ناروا حصاروں سے نکل کر وحدت انسانی کی حسین لڑی میں پروجائیں۔ چنانچہ آپ نے اہل کتاب کو دعوت دی کہ جو قدریں ہمارے اورتمہارے درمیان مشترک ہیں ان پر متحد ہوجاو (آل عمران:۴۶) اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو یہود ومشرکین مدینہ کے ساتھ پر امن تعایش باہمی (Peaceful co-existence) کا معاہدہ کیا اور سب کو ایک قوم(Nation) قرار دیا۔ (ابن ہشام) لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج جہاں عام دنیا میںمذہبی منافرت کا بازار گرم ہے ۔ وہاں خود داعی اتحاد ِ انسانیت کی امت بھی مسلکی وگروہی اختلافات کے دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ۔ حالانکہ یہ روزانہ ایک ہی کلمہ پڑھتی اور ایک ہی قبلہ کی طرف جھکتی ہے۔
آج آزادی نسواں اورحقوق خواتین کی حمایت میں مختلف حلقوں کی طرف سے دلفریب اورخوش کن نعرے لگائے جارہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہر سطح پر جس قدر ان کے حقوق کی پامالی ہورہی ہے اوران کا مختلف طریقوں سے استحصال ہورہا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، تقریباً یہی کیفیت بعثت رسول کے وقت بھی تھی۔ انہیں اپنی مرضی سے زندہ رہنے تک کا حق حاصل نہیں تھا۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو حق زیست عطا کیا، سماج میں مقام دلایا۔ خاندان کی ملکہ قرار دیا اور ان کی تعلیم وتربیت کی فضیلت بیان کی ۔ آپ نے فرمایا جس نے تین بچیوں کی پرورش کی۔ پھرانہیں اچھی تعلیم وتربیت دے کر ان کی شادی کردی اور ان سے اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے ۔(بخاری) جس کے پاس بہن یابیٹی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے جنس معلوم کرکے اسقاط حمل بھی اس میں شامل ہے) ان کو کم تر نہ سمجھے اور نہ ہی اس پر اولادِ نرینہ کو ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔(ابوداو ¿د)
عرب میں عدل ومساوات کا صحیح معیار خاندان، قبیلہ اور رنگ ونسل تھا۔ عموماً انہی بنیادوں پر فیصلے ہوا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام امتیازات کو مٹاکر ایک ایسے نظام عدل کی بناڈالی جس کے سایے میںہرشخص کو انصاف ملا اور کسی کاحسب ونسب امارت وغربت اور قومیت ووطنیت نفاذ عدل میںمانع نہیں ہوسکی۔ ایک مرتبہ قبیلہ مخزوم کی فاطمہ نامی عورت چوری کے جرم میںماخوذ ہوئی۔ عدالت نبوی سے اس کے ہاتھ کاٹ دینے کا فیصلہ صادر ہوا۔ یہ بات کچھ لوگوں کو ناگوار گزری، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زےادہ محبت کرتے تھے،سے سفارش کرائی کہ ایک ذی حیثیت عورت کی اتنی بڑی توہین نہ کی جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ پر کافی غصہ ہوئے اور فرمایا کہ کہ کیاتم اللہ کی مقرر کی ہوئی ایک حد کو نافذ کرنے سے روکنے کے لیے سفارش کرتے ہو۔پھر آپ نے مجمع سے یہ خطاب کیا۔ ”لوگو! تم سے پہلے کی امتوں کی گمراہی کا سبب یہ تھا کہ جو سماج کا معزز آدمی چوری کرتا تواسے چھوڑدیا جاتا اورجب کم زور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کردی جاتی۔اللہ کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں گا۔(بخاری)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کا ایک نمایاں پہلو خدمت خلق بھی ہے۔ آنحضرتﷺ صرف داعی انقلاب اور مربی ہی نہیں تھے بلکہ آپ کی حیثیت سماجی کارکن اور رفاہی ادارے کی بھی تھی۔جس سے کیا مسلم کیا غیر مسلم،سب متمتع ہوتے تھے۔ آپ کا ابرکرم دشت وچمن پر یکساں برستا تھا۔ کسی کی پریشانی کو دیکھ کر آپ بے چین ہوجاتے اور آگے بڑھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کرتے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ قبیلہ اراش کا ایک شخص اونٹ لے کر مکہ آیا۔ ابوجہل نے اس سے وہ اونٹ خرید لیا اور قیمت کی ادائیگی کے سلسلے میں ٹال مٹول کرنے لگا۔ بالآخر تنگ آکر اس اراشی نے ایک روز حرم کعبہ میںآکر رو ¿سائے قریش کو جاپکڑا اورمجمع عام میں فریاد شروع کردی۔ لیکن ان میں سے کسی میں بھی ابوجہل کے خلاف اراشی کی فریاد رسی کی جرا ¿ت نہ ہوئی۔ اس وقت مسیحا نفس رسول رحمت نے ہی اس اجنبی کی داد رسی کی اورابوجہل سے کہہ کر اس کا حق دلوایا۔(ابن ہشام) حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ مدینے میں ایک یہودی رہتا تھا۔جس سے مےں قرض لےا کرتا تھا۔ اےک سال اتفاق سے کھجورےں نہےں پھلےں اورےہودی کاقرضہ ادا نہ ہوسکا۔ اس پر پورا سال بیت گیا بہارآئی توےہودی نے تقاضا شروع کردےا اب کے بھی پھل بہت کم آئے۔ مےں نے آئندہ فصل کی مہلت مانگی اس نے انکار کردیا ۔میں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم سے تمام واقعات بےان کےے توآپ چند صحابہ کے ساتھ اس ےہودی کے گھرتشرےف لے گئے اوراسے کئی بار سمجھا ےا کہ مہلت دے دو۔ مگروہ کسی طرح راضی نہےںہوا۔ بالآخر آنحضرت صلی اللہ علےہ وسلم حضرت جابرکے باغ میں درختوں کے درمےان کھڑے ہوگئے اور ان سے کہا کہ کھجورےں توڑنی شروع کرو۔ آپ کی برکت سے اتنی کھجوریں نکیں کہ یہودی کا قرض ادا کرکے بھی بچ رہیں۔(بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فطرتا نہایت شفیق اوررحم دل واقع ہوئے تھے۔ اللہ تعالی نے آپ کو رحمت عالم بناکر بھےجاتھا۔آپ کی ساری زندگی لوگوں کے ساتھ ہم دردی اوران کی بہی خواہی میں بسرہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اللہ تعالی کووہ شخص بہت محبوب ہے جواس کے کنبہ کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے (احمد) اہل زمین پررحم کرو اللہ عرش والا تم پرمہربان ہوگا(ابوداو) اللہ ایسے بندے پررحم نہےں کرتا جولوگوں پر رحم نہےں کرتا(احمد) ایک صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علےہ وسلم سے کسی پر بددعاکرنے کی درخواست کی تونہاےت غضبناک ہوکر آپ نے فرمایا میں دنیا میں لعنت کے لئے نہیں آیا ہوں(ابوداو ¿د) ایک دفعہ چند یہودی آپ کی خدمت مےں حاضرہوئے اورشرارت سے السلام علےکم کے بجائے السام علےکم (تمہاری موت ہو) کہا ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے غصہ مےں آکر اس کو سخت جواب دےا لےکن آپ نے انہےں روکا اورفرماےا کہ عائشہ! بدزبان نہ بنو، اللہ ہرمعاملے مےں نرمی کوپسند کرتا ہے(مسلم)
آنحضرت صلی اللہ علےہ وسلم نے نہ صرف ےہ کہ انسانوں پررحمت وشفقت کے پھول برسائے بلکہ آپ کی باران رحمت سے چرند وپرندنے بھی پےاس بجھائی۔ امام بخاری نے الادب المفرد مےں ےہ واقعہ نقل کےا ہے کہ اےک بار رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم کسی سفر مےں جارہے تھے ، دوران سفر اےک جگہ پڑاو ¿ ڈالا گےا قرےب ہی مےں اےک پرندہ انڈا دےا ہواتھا۔ اےک صاحب نے وہ انڈا اٹھالےا چڑےا بے قرار ہوکر پرمارنے لگی۔ آپ نے دریافت کےا کہ اس کوکس نے اذےت پہنچائی ہے؟ان صاحب نے عرض کیا کہ میں نے اس کا انڈا اٹھالیا ہے ۔ آپ نے فرماےا اسے وہےں رکھ دو۔اےک مرتبہ کسی انصاری کے باغ مےں آپ تشرےف لے گئے۔ اےک لاغر اونٹ نظرپڑاوہ آپ کودےکھ کر بلبلا یا، آپ نے شفقت سے اس پرہاتھ پھےر ا پھرلوگوں سے اس کے مالک کا نام درےافت کےا۔ معلوم ہوا کہ ایک انصاری کاہے۔ آپ نے اس سے فرماےا اس جانور کے معاملے مےں اللہ سے نہےں ڈرتے(ابوداو ¿د)
مختصر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم کے اس بے مثال نمونہ زندگی اوراعلی تعلےمات کا اثرےہ ہوا کہ دےکھتے ہی دےکھتے انسانےت کی کایاپلٹ ہوگئی اورمحض تےئس سالہ کوششوں کے نتےجے مےں جزےرہ عرب جاہلوں گنواروں، توہم پرستوں، غارت گروں، دخترکشوں اوردوسروں کے حقوق مارنے والوں کا مجمع نہےں رہ گےا بلکہ وہ ایک مہذب، تعلےم ےافتہ، پاکےزہ اخلاق ، روشن خےال اورامن پسند لوگوں اورحقوق انسانی کے پاسبانوں کا معاشرہ بن گےا ۔ ذیل میں سیرت پاک کے زیر اثر تشکیل پانے والے مدنی معاشرے کی ایک جھلک پیش کی جاتی ہے۔
سےدنا ابوبکر صدےق رضی اللہ عنہ جب خلےفہ ہوئے توانہوں نے حضرت عمرفاروق اعظم کو مدےنے کا قاضی مقررکےا۔ لےکن اےک سال اس حال میں بیت گےا نہ ان کے پاس کوئی مقدمہ آےا نہ ہی انہےں مجلس عدالت منعقد کرنی پڑی۔ چنانچہ انہوںنے اےک دن امےرالمو ¿منےن کی خدمت مےں اپنا استعفی پےش کردےا، حضرت ابوبکرؓ نے درےافت کےا اے عمر! کےا تم منصب قضا کی مشقتوں کی وجہ سے مستعفی ہونا چاہتے ہو؟ جواب دےا ، ہرگز نہےں ےاخلےفة المسلمےن! بات دراصل ےہ ہے کہ اےسے معاشرے مےں قاضی کی کوئی ضرورت نہےں ہے جس کا ہرفرد اپنے حقوق سے واقف ہے وہ اس سے زےادہ پانے کی کوشش نہےں کرتے ۔ ہرشخص اپنے فرائض سے آشنا ہے وہ ان کی ادائےگی مےں کوتاہی نہےں کرتا۔ ان کاہرآدمی اپنے بھائےوں کے لےے وہی چاہتا ہے جواپنے لےے چاہتا ہے۔ حقےقت ےہ ہے کہ اگران کا کوئی فردغائب ہوجاتا ہے تووہ اس کو تلاش کرتے ہےں، جب کوئی بےمار پڑتا ہے تووہ اس کی عےادت کرتے ہےں ۔ اگرکوئی تنگ دست ہوجاتا ہے تووہ اس کی مددکرتے ہےں، جب کوئی ضرورت مند ہوتاہے تووہ اس کی ضرورت پوری کرتے ہےں۔ اگرکوئی کسی مصےبت مےں گرفتار ہوتاہے تووہ اس کی چارہ جوئی کرتے ہےں۔ ان کا دےن نصح وخےرخواہی سے عبارت ہے اوراخلاق امربالمعروف ونہی عن المنکر کی عملی تفسےر ہے توپھر وہ آپس مےں کےوں لڑےں گے اورکےوں جھگڑا کرےں گے؟ (عدة المسلمین)
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیرت نبوی صلی اللہ علےہ وسلم کے پےغام کوعام کےا جائے ۔ اگرمعاصر دنیا واقعی مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی وروحانی ترقی چاہتی ہے اوروہ پرامن زندگی کی خواہا ں ہے تواسے اسوہ ¿ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانا ہوگا۔ بلاشبہ موجودہ مشکلات کاحل سیرت نبوی میں موجودہے اوراس کی معنویت ہرزمانے میں برقرار رہے گی۔
No comments:
Post a Comment