Friday, February 25, 2011

جناب پروفیسر طاہر محمود صاحب سے معذرت کے ساتھ

گرامی قدر جناب پروفیسر طاہر محمود صاحب
تسلیمات وآداب!
آپ کا مضمون ”ہم اہل صفا مردودحرم“ روزنامہ راشٹریہ سہارا دہلی ”۱۲فروری ۱۱۰۲ئ “کے ادارتی کالم میںباصرہ نواز ہوا۔ ماشاءاللہ آپ کی وسعت معلومات اورپروقارودلچسپ اسلوب نگارش کے کیاکہنے ! لیکن بسااوقات آپ فتوی والی زبان استعمال کرنے لگتے ہیں۔جوآپ کی شخصیت کے لیے مناسب نہیں ہے۔ آپ نے لکھا ہے ”قابل ذکرہے کہ برصغیر ہندوپاک میں علماءدین، بلکہ چھوٹے سے چھوٹے مذہبی کارکنوں تک کے لیے مولوی(میرے مولی) اورمولانا (ہمارے مولی) کے اصلا عربی الفاظ مستعمل ہیں۔جوظاہرہے کہ اپنے لغوی معنوں میں دینی عقائد کے لحاظ سے بالکل درست نہیں ہے“۔نہایت سطحی انداز تجزیہ ہے۔ کسی بھی لفظ کے لغوی معنی کچھ ہوتے ہیں۔ اوراصطلاحی معنی کچھ اور،شریعت میں لغت کے بجائے اصطلاح وعرف کا اعتبار ہے۔یہ اہل علم کا رویہ نہیں ہے۔ آج کل بدقسمتی سے لغت دیکھ کر قرآن فہمی کا رجحان بڑھنے لگا ہے۔جواعتزال کی صورت اختیار کررہا ہے۔
اسی طرح فی زمانہ ایک اورفیشن عام ہواہیکہ یہ معتزلین جب کسی ملک میں حقوق انسانی یا شہری آزادی کی پامالی کی باتیں کریںگے تواس موقع پرروئے زمین پر کتاب وسنت کی اساس پر قائم واحد حکومت مملکت سعودی عرب پر ایک پتھر ضرور ماریں گے۔حالانکہ اس مملکت کے اندر امن وخوشحالی جس قدر ہے وہ دنیا کے کسی بھی ملک کو میسر نہیں ہے۔ آج جمہوریت اورمساوات کے نام پر دنیا میں کیا نہیں ہورہا ہے۔ پروفیسر صاحب اس ہیچ مداں سے زیادہ واقف ہیں ۔کیا مملکت سعودی عرب کا وہی حال ہے جودیگرخاندانی حکومتوںکاہے۔ خداراکتاب وسنت کی تعلیم عام کرنے والی رفاہی وانسانی اسٹیٹ مملکت سعودی عرب کو ایک ہی ڈنڈے سے ہانکنے کی کوشش نہ کریں ۔ سیاسی لات وعزی کو کعبہ بدرکرکے کس کلیم طورکوپاسبان حرم بنائیںگے۔افغانستان وعراق کی طرح کسی انقلابی نوری یا کرزئی کو یا پھردیگرغلامان امریکہ بہادرکو۔آئینہ ایام میںاپنی ادا یہی نظرآرہی ہے۔گستاخی کے لئے معافی کا طلبگار۔والسلام


No comments:

Post a Comment